بنگلورو،3؍جولائی(ایس او نیوز)ریاستی لیجسلیچر اجلاس کے دوسرے دن آج اسمبلی میں کسانوں کے قرضوں کی معافی کا معاملہ وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی اور سابق وزیراعلیٰ واپوزیشن لیڈر بی ایس یڈیورپا کے درمیان زور دار نوک جھونک کا موضوع بنا۔
یڈیورپانے آج اسمبلی میں گورنر کے خطبے پر تحریک تشکر کی بحث کا آغاز کرتے ہوئے کسانوں کے قرضے معاف کرنے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کے فیصلے پر شدید نکتہ چینی کی تو دوسری طرف کمار سوامی نے بھی بی جے پی کے کسان مخالف رویے پر وار کرتے ہوئے انہیں آڑے ہاتھوں لیا۔ یڈیورپانے کہاکہ وزیر اعلیٰ کمار سوامی کو شرم آنی چاہئے کہ صرف 37 اراکین اسمبلی کو لے کر وزیراعلیٰ بن بیٹھے ہیں۔ ایک ایسی حکومت جسے ریاستی عوام کا اعتماد حاصل نہیں وہ زیادہ دنوں تک ٹکنے والی نہیں ہے۔ دو دو ریموٹ کنٹرول سے یہ حکومت کس سمت میں آگے بڑھے گی کسی کو کچھ پتہ نہیں ، ایک ریموٹ کنٹرول دہلی میں ہے تو دوسرا پدمانابھا نگر میں ہے۔ عوام کی فلاح وبہبود کے لئے حکومت کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن ایسی حکومت جسے اپنے مستقبل کا یقین نہیں اس سے عوام کی بھلائی کی توقع خام خیالی ہوگی۔
وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے یڈیورپا کے اس تبصرے پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر یہ حکومت چلنے والی نہیں ہے تو پھر اسمبلی میں بحث کیوں کرنے آئیں ہیں، جرأت ہے تو اس حکومت کو گراکر دکھائیں۔ یڈیورپا نے وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے وزرائے اعلیٰ سے قریبی تعلقات پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ یہ ریاست کے لئے انتہائی خطرناک رجحان ہے کیونکہ اس قربت سے شمالی کرناٹک کے آب پاشی منصوبے کھٹائی میں پڑ سکتے ہیں۔ پہلے ہی ریاست میں اس خطے کے عوام پانی کی شدید قلت سے بدحال ہیں ۔
وزیر اعلیٰ کمار سوامی کی طرف سے کسانوں کے ان قرضوں کو بھی معاف کرنے جو نجی افراد سے لئے گئے ہیں کا اعلان کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے یڈیورپا نے کہا کہ کمار سوامی کو اپنا وعدہ نبھانا چاہئے اور نجی افراد سے کسانوں نے جو قرضے حاصل کئے ہیں انہیں بھی معاف کردینا چاہئے۔ اس مرحلے میں کمار سوامی نے کہاکہ انہوں نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیاتھا کہ نجی افراد سے کسانوں نے جو قرضے حاصل کئے ہیں انہیں معاف کیا جائے گا۔
یڈیورپا نے جواب میں کہاکہ اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے وہ ویڈیو ثبوت پیش کرسکتے ہیں۔ اس مرحلے میں جب وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے یڈیورپا کو متنبہ کیا کہ وہ ان کے صبر کا امتحان لینے کی کوشش نہ کریں۔ اپنی زبان کو لگام دیں ورنہ ٹھیک نہیں ہوگا۔ یڈیورپانے اس مرحلے میں کمار سوامی کو دوبارہ نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ بحیثیت وزیر اعلیٰ 2008میں کمار سوامی نے انہیں کسانوں کے قرضے معاف کرنے سے روکا تھا۔ اب انہیں کسانوں کے قرضے معاف کرنے کی فکر کیوں ہورہی ہے؟۔
یڈیورپا نے کہاکہ اپنے بیان کو ثابت کرنے کے لئے وہ ایوان میں دستاویزی ثبوت بھی پیش کرنے تیار ہیں۔ اس وقت کسانوں کے قرضوں پر سود معاف کئے جانے پر دیوے گوڈا نے انہیں آڑے ہاتھوں لیاتھا۔ اب ان دونوں نے ایک الگ ہی رخ اپنا لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ اور سابق وزیراعلیٰ کے درمیان تیکھی نوک جھونک پر اسپیکر رمیش کمار نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ دونوں ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر کام کرچکے ہیں۔ غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو فضول بحث کا حصہ نہ بنائیں۔ ایک دوسرے پر ذاتی بنیاد پر نکتہ چینی درست نہیں۔ اگر یہی سلسلہ چل پڑا تو لیجسلیچر کے اجلاس کی سمت بدل جائے گی، اسی لئے اس قسم کی تکرار سے گریز کیا جائے۔